دم بدم میرا طرف دار ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔ غزل از عارف نظیر
دم بدم میرا طرف دار ہوا کرتا تھا دم بدم میرا طرف دار ہوا کرتا تھا یہ جو دشمن ہے کبھی یار ہوا کرتا تھا جو ترے دل سے تڑی پار ہوا کرتا تھا مرگِ تنہائی سے دو چار ہوا کرتا تھا میں سمجھتا تھا محبت ہی مری دولت ہے پر مرا یار سمجھدار […]